ملتان(مانیٹرنگ ڈیسک، این این آئی) ایف بی آر نے سینئر سیاستدان جاوید ہاشمی کی بیٹی امینہ ہاشمی کے اکائونٹ سے 52 لاکھ نکلوا لیے ، جس پر سینئر سیاستدان جاوید ہاشمی نے رد عمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ڈپٹی کمشنر کے کہنے پر میری بیٹی کے اکائونٹ سے پیسے نکالےگئے ، ایسے تمام ہتھکنڈوں سے مجھے توڑنے کی کوشش کی جا رہی ہے ، عدالتی حکم امتناعی کے باوجود ایف بی آر نے یہ رقم جبری طور پر اکائونٹ سے نکلوائی ، جو ٹیکس نوٹس بھیجا گیا اس کی تاریخ 15 جون تک تھی ، بغیر اطلاع ایف بی
آر کی اس کارروائی پر سیاسی، سماجی ودیگر حلقوں با لخصوص کاروباری حلقوں میں عدم تحفظ کا اظہار پایا جاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ مجھے معاشی طور پر کمزور کیا جا رہا ہے ، میری بیٹی نے 40 سال پرانا پلاٹ بیچ کر پیسے بنک میں جمع کروائے ، بیٹی میرے لئے گاڑی لینا چاہتی تھی، بیٹی پر ٹیکس نہیں بنتا جب کہ ہائی کورٹ کا حکم ہے کہ کسی کے اکائونٹ سے پیسے نہیں نکالے جا سکتے ، حکومت نے توہین عدالت کی ، توہین عدالت اور پیسوں کی واپسی کے لئے عدالت جائوں گا۔دوسری جانب چیف کمشنر ایف بی آر عابد رضا بودلہ کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ آمنہ ہاشمی کی بنک ٹرانزیکشن کروڑوں روپے میں تھی، آمنہ ہاشمی کے انکم ٹیکس گوشواروں اور بنک اکاونٹ میں واضح فرق تھا،کئی مرتبہ نوٹس بھی جاری کئے گئے لیکن انہوں نے کوئی جواب نہ دیا ،کئی ماہ سے تحقیقات کا عمل جاری تھا۔ آمنہ ہاشمی کی جانب سے کوئی جواب نہ آنے پر کارروائی کی گئی۔
from Breaking News – Top 10 facts of the world in Urdu https://ift.tt/3cl4qgS










0 comments:
آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔