Monday, 7 June 2021

گھوٹکی ٹرین حادثہ کی ایک ماہ پہلے پیش گوئی۔۔۔کوئی انکوائری رپورٹ نہیں آئے گی فاتحہ پڑھ لی جائے، حیران کن انکشاف

0 comments

قومی اسمبلی کی ذیلی کمیٹی برائے ریلوے کے اجلاس میں رکن اسمبلی رمیش لال نے کہا کہ ٹرین حادثے کی کوئی انکوائری رپورٹ نہیں آئے گی فاتحہ پڑھ لی جائے گی۔تفصیلات کے مطابق قومی اسمبلی کی ذیلی کمیٹی برائے ریلوے کا اجلاس رکن اسمبلی رمیش لال کی زیر صدارت ہوا،

سیکرٹری ریلوے بورڈ مظہر رانجھا نے ڈہرکی حادثے پر کمیٹی کو بریفنگ دی۔نجی ٹی وی اے آروائی نیوز کے مطابق بریفنگ میں سیکریٹری ریلوے بورڈ کا کہنا تھا کہ ڈہرکی حادثے کی ذمہ دار وزارت نہیں ہے، رمیش لال نے کہا کہ ایک ماہ پہلے کہا تھا اس ٹریک پر حادثہ ہوگا۔ سیکریٹری نے کہا کہ حادثے کی وجوہات جاننے کے لیے انکوائری جاری ہے، ممکن ہے حادثہ تکنیکی خرابی کے باعث پیش آیا ہو۔ رمیش لال نے کہا کہ ڈی ایس سکھر نے ٹریک کو ان فٹ قراردیا تھا جس پر سیکریٹری ریلوے بورڈ نے کہا کہ ڈی ایس سکھر کا بیان انتہائی غیر ذمہ دارانہ ہے، حادثے کا شکار ٹرین کی آخری 3 بوگیاں ڈی ریل ہو گئی تھیں۔انہوں نے کہا کہ وقت کی کمی پر ٹرین روکنے کا آرڈر جاری نہیں ہوسکا، رمیش لال نے برہمی سے کہا کہ افسران بیڑا غرق کر رہے ہیں، بدنام سیاستدان ہو رہے ہیں۔ رمیش لال کا کہنا تھا کہ کراچی میں ڈی ایس کا گھر دیکھیں تو 100 کنال کا گھر ہوگا دوسری طرف عوامی نمائندے ایک کمرے کے اپارٹمنٹ میں رہ رہے ہیں۔ انہوں نے دریافت کیا کہ ریل حادثے میں جاں بحق مسافروں کی موت کا کون ذمہ دار ہے؟ رکمن کمیٹی آفتاب جہانگیر نے کہا کہ 2 دن بعد انکوائری رپورٹ آجائے گی پتہ چل جائے گا جس پر رمیش لال نے کہا کہ کوئی انکوائری رپورٹ نہیں آئے گی فاتحہ پڑھ لی جائے گی۔یاد رہے کہ آج علیٰ الصبح گھوٹکی اسٹیشن پر کراچی جانے والی سرسید ایکسپریس، ٹریک پر موجود ملت ایکسپریس سے ٹکرا گئی جس کے نتیجے میں 50 سے زائد افراد جاں بحق ہوچکے ہیں۔



from Breaking News – Top 10 facts of the world in Urdu https://ift.tt/3x3PVG7

0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔