Friday, 3 September 2021

صحابہؓ کی آنکھوں کے تارے حسینؓ۔۔۔۔

0 comments

آنحضرتﷺ کے مقدس آغوش میں حضرت سیدنا حسینؓ نے ہوش سنبھالا۔ آپ ﷺ کی لختِ جگر،خاتون جنت،سیدہ نسآء العالمین سیدہ فاطمتہ الزہراؓ جیسی بے مثل ماں اور امیر المؤمنین حضرت سیدنا علی المرتضیؓ جیسے باب العلم سے قرآن وسنت،ایمان ویقین،علم ونظر،تقوی و طہارت،جرآت و شجاعت اور

اعلٰی شرافتوں کا سبق سیکھا تھا۔آپؓ اہلبیت کرامؓ کے چاند اور حضرات صحابہؓ کرام کی آنکھوں کی ٹھنڈک تھے۔بالخصوص سیدنا ابوبکر صدیقؓ ،سیدنا فاروق اعظمؓ ، سیدنا عثمان غنیؓ حضرت سیدنا حسینؓ سے اپنی اولاد سے بھی بڑھ کر محبت و شفقت فرماتے تھے۔حضرت سیدنا ابوبکر صدیقؓ حضرات حسنین کریمینؓ کو دیکھتے ہی فورا گلے سے لگا لیتے اور فرماتے کہ یہ حضور نبی کریمﷺ سے مشابہت رکھتے ہیں،انہیں دیکھ کر آنحضرتﷺ کا جمالِ بے مثال نظروں میں پھر جاتا ہے۔حضرت سیدنا حسنؓ و حسینؓ سے حضرت سیدنا فاروقؓ اعظم کی محبت اور وارفتگی کا عجیب عالم تھا۔آپؓ ہی کا دور خلافت تھا کہ حاکمِ یمن سے اعلٰی وعمدہ پوشاکیں منگوا کر شہزادوں(حضرات سیدنا حسنؓ وسیدنا حسینؓ )کو پہنائیں ۔اسی طرح حضور نبی کریمﷺ کے دوہرے داماد خلیفہ راشد امام مظلوم مدینہ سیدنا عثمان ذوالنورینؓ سے بھی آپؓ نے خوب علمی استفادہ کیا۔حضور نبی کریمﷺ ،ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہؓ ، سیدہ فاطمتہ الزہراؓ و حضرات صحابہؓ کرام سے ٹریننگ لینے کا یہ اثر ہوا کہ کم عمری میں ہی دل و دماغ روشن ہو گیا شعور و ادراک کی قوتیں مضبوطی پکڑ گئیں۔ذہانت و فطانت اور فہم و ذکا کا یہ عالم تھا کہ ایک مجلس میں حضرت سیدنا علی المرتضیؓ وعظ فرما رہے تھے

اور حضرت سیدنا حسینؓ بھی وہیں تشریف رکھتے تھے، اس وقت آپؓ کی عمر مبارک آٹھ نو برس کے قریب تھی، ایک سائل نےحضرت سیدناعلی المرتضیؓ سے پوچھا کہ یہ تو بتائیے! کہ ازروئے شریعت سب سے عقلمند کون ہے۔۔۔؟حضرت سیدنا حسینؓ نے حضرت سیدنا علی المرتضیؓ کی طرف دیکھا اور عرض کیا اباجان ! اگر آپؓ اجازت دیں تو میں اسکا جواب دوں؟ حضرت سیدنا علی المرتضیؓ نے مسکرا کر اجازت فرمائی،حضرت سیدنا حسینؓ نے فرمایا کہ میرے نانا جان حضور نبی کریمﷺ کی حدیث مبارکہ ہے کہ وہی شخص سب سے بڑھ کر دانا ہے جو اپنی زبان قابو میں رکھے اور بجز ذکرِ الٰہی اور اچھی بات کے اس کو استعمال نہ کرے، آپؓ کے اس مدلّل اور دانشمندانہ جواب سے سائل اور حاضرینِ مجلس بہت حیران ہوئے،حضرت سیدنا علی المرتضیؓ نے آپؓ کو گلے لگا کر منہ چوم لیا۔رضوان اللہ تعالی علیھم اجمعین۔ ‏‎حضرت سیدنا صدیق اکبرؓ کا عہدِ خلافت گو بہت مختصر،یعنی سوا دو سال کے قریب رہا مگر جتنا عرصہ بھی حیات رہے،اہلبیتؓ کرام کا بہت خیال رکھتے تھے اور حضرت سیدنا حسینؓ پر تو آپؓ جان نچھاور فرماتے تھے،حضرت سیدنا صدیق اکبرؓ خود لوگوں کو تاکید فرماتے کہ انکی عزت اور خدمت کرو،اُن کا حق پہچانو،اُن کو ضرورت سے زیادہ دو اور اُن کو خوش رکھو۔حضرت سیدنا حسینؓ اکثر حضرت سیدنا صدیق اکبرؓ کے پاس جاتے اور ان سے دینی و دنیوی فوائد حاصل فرماتے، مسائل واحکام سیکھتے،امور ضروریہ سے واقفیت حاصل کرتے۔

حضرت سیدنا صدیق اکبرؓ نے ایک دفعہ فرمایا اے حسینؓ ! تم مجھے میری جان سے بھی زیادہ عزیز ہو، اسلئے کہ تم میرے آقائے نامدارﷺ کے نواسے اور میرے پیارے دوست حضرت سیدنا علی المرتضیؓ کے فرزند اور جگر گوشہِ رسولﷺ سیدہ فاطمتہ الزہراؓ کے نورِ نظر ہو۔تمہیں جس چیز کی ضرورت ہو بلاجھجک مجھے کہہ دیا کرو اگر مجھ سے نہ کہہ سکو تو اپنی نانی جان ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہؓ سے کہہ دیا کرو۔ حضرت سیدنا صدیقؓ اکبر حضرت سیدنا حسینؓ کو سینے کے ساتھ لگاتے اور پیشانی پر بوسہ دیا کرتے تھے ۔‏‎حضرت سیدنا فاروق اعظم ؓ حضرت سیدنا حسینؓ کے انتہائی مرتبہ شناس تھے۔اسی لئے تو جب حضرت سیدنا عبداللہؓ ابن عمرؓ اور حضرت سیدنا حسینؓ ابن علیؓ کے درمیان رنجش ہوگئی جبکہ وہ آپس میں کھیل رہے تھے تو حضرت سیدنا حسینؓ نےحضرت سیدنا عبداللہؓ ابن عمرؓ سے کہا،ارے تو اس بات پر نہ اترا کہ تیرا باپ خلیفہ وقت ہے، یاد رکھ تو تو ہمارا غلام زادہ ہے ،تمہارے والد ہمارے ناناﷺکے غلام ہیں اور میرے نانا جانﷺ کی بدولت ہی انہیں خلافت ملی ہے۔ اس پر حضرت سیدنا فاروق اعظمؓ نے بکمالِ شفقت فرمایا کہ فرزندِ رسولﷺ! تم نے جو بات (حضرت سیدنا) عبداللہؓ سے کہی وہی بات میرے سامنے سے کہو اور پھر سیدنا حسینؓ کا بازو پکڑ کر روضۂ رسولﷺ کے سامنے حاضر ہوئے اور روضۂ اقدسﷺ کی طرف اشارہ کر کے فرمایا اے حسینؓ ! تجھے اللہ کی قسم!قیامت کے دن بھی اسی طرح گواہی دینا کہ (حضرت سیدنا) عمرؓ میرے نانا جانﷺ کا غلام ہے اور(حضرت سیدنا) عمر بن خطابؓ کی زندگی رسول اللہ ﷺ کی غلامی میں گزری ،یہ کہہ کر

سیدنا فاروق اعظمؓ زاروقطار رونے لگے۔ آپؓ آنسو پونچھتے اور بار بار فرما رہے تھے کہ (حضرت سیدنا) عمرؓ کی اس سے بڑھ کر اور کیا سعادت ہو سکتی ہے کہ وہ جناب رسول اللہ ﷺ اور ان کے اہل بیتؓ اور ان کی آل اطہارؓ کا غلام کہلائے اور اس کو انکی غلامی کی سند مل جائے۔خلافت سیدنا فاروق اعظمؓ کے آغاز میں حضرت سیدنا حسینؓ کی عمر مبارک نو دس سال کے لگ بھگ تھی۔حضرت سیدنا حسینؓ تقریباً روزانہ حضرت سیدنا فاروق اعظمؓ کے پاس جاتے۔ان سے تعلیم وتربیت حاصل کرتے۔آپؓ کی مجلس میں بیٹھتے،ان سے دینی ودنیوی امور سیکھتے،شرعی معارف سے واقف ہوتے۔سیدنا فاروق اعظمؓ کی سیدنا حسینؓ سے محبت کا اندازہ اس واقعہ سے بھی ہوتا ہے کہ ایک دفعہ غنیمت کا مال آیا اور سیدنا فاروق اعظمؓ اسے تقسیم کرنے بیٹھے،تو آپؓ نے دونوں شہزادوں سیدنا حسنؓ اور سیدنا حسینؓ کو پانچ ہزار درھم دیے اور اپنے بیٹے (حضرت سیدنا) عبداللہؓ ابن عمرؓ کو ایک ہزار درہم دیے،اس پر حضرت سیدنا عبداللہؓ ابن عمرؓ نے عرض کیا ابا جان ! میں مہاجر ہوں،مقدم الاسلام ہوں، میں زیادہ حق رکھتا ہوں۔امیر المؤمنین سیدنا فاروق اعظمؓ نے فرمایا بیٹے! جو تیرا حق تھا تجھے مل گیا اور شہزادوں (حضرات حسنین کریمینؓ )کے متعلق فرمایا کہ ان کا تو مرتبہ ہی جدا ہے ،یہ رسول اللہﷺ کے نواسے ہیں اور حضرت سیدنا علی المرتضیؓ اور سیدہ فاطمتہ الزہراؓ کے لخت جگر ہیں، اس پر حضرت سیدنا عبداللہؓ ابن عمرؓ خاموش ہو گئے۔ اسی طرح ایک بار حاکمِ یمن نے امیرالمؤمنین حضرت سیدنا فاروق اعظمؓ کی خدمت میں کچھ حُلّے بھیجے۔آپؓ نے وہ لوگوں میں تقسیم کر دیئے،

جب آپؓ تمام حُلّے بانٹ دیئے اور حاکم یمن کو لکھا کہ اعلٰی قسم کے دو حُلّے جلد از جلد بھیج دیجیئے۔اُس نے فورا تعمیل حکم کی اور دو بہترین حُلّے بھیج دیے۔ حضرت سیدنا فاروق اعظمؓ نے وہ حُلّے سیدنا حسنؓ اور سیدنا حسینؓ کو پہنا دیے اور فرمایا شکر ہے اُس اللہ رب العزت کا جس نے میرا دل ٹھنڈا کیا ہے۔ قارئین کرام!اندازہ کیجیئے کہ حضرت سیدنا فاروق اعظمؓ کو جناب رسول کریمﷺ،آپ ﷺکی آلؓ اولاد اور اہلبیتؓ سے کس قدر والہانہ محبت تھی کہ آل رسولﷺ واہلبیتؓ کا حق ہمیشہ مقدم اور فائق رکھتے ،ان کے لئے بڑے بڑے وظیفے مقرر کیے،اُن کو خطیر عطیے دیتے رہے،کثیر رقمیں عطا کرتے رہے،اُن کا ادب واحترام بجا لاتے رہے اور اپنے عزیز واقارب کے حقوق کو ان کے حقوق کے مقابلے میں نظر انداز کر دیا، اللہ تعالی بیشمار رضائیں اور رحمتیں نازل ہوں حضرت سیدنا فاروق اعظمؓ پر جنہیں رسالتمآبﷺ نے اللہ تعالی سے دعائیں مانگ کر لیا اور جنہیں اسلام کی عزت وعظمت قرار دیا۔رضی اللہ عنھم ورضو عنہ۔ ‏‎حضرت سیدنا حسینؓ عہد فاروقیؓ میں ہی عمرِ رشد و بلوغ کو پہنچ چکے تھے اور حضرت سیدنا عثمان غنیؓ کے دورِ خلافت میں تو وہ بھرپور جوان تھے۔حضرت سیدنا عثمان غنیؓ نے بھی اپنے پیش روؤں کی طرح آل نبیﷺ اور اہلبیت نبیﷺ کے حقوق اور احترام کو ملحوظ رکھا،یوں بھی حضرت عثمان غنیؓ حضرت سیدنا حسینؓ کے خالو تھے،آپؓ قرابتداری کے آداب و قواعد سے خوب واقف تھے اور ارشاد نبویﷺ کے مطابق سب کو علٰی قدر مراتب رکھتے۔ایک بار اپنے خطبہ میں حدیث مبارکہ پڑھ کر حضرات حسنؓ وحسینؓ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ جو شخص رسول اللہﷺ سے محبت رکھتا ہے ،اس پر فرض ہے کہ ان سے بھی محبت رکھے اور انکے درجات کو پہچانے۔ حضرت سیدنا حسینؓ بھی آپؓ سے بہت محبت فرماتے اس کا ثبوت یہ ہے کہ جب باغیانِ خلافت نے جب

حضرت سیدنا عثمان غنیؓ کے مکان کا محاصرہ کیا تو حضرت سیدنا علی المرتضیؓ نے اپنے شہزادوںؓ کو حضرت سیدنا عثمان غنیؓ کی حفاظت پر مقرر فرمایا ،حضرت سیدنا حسنؓ و حضرت سیدنا حسینؓ نے باغیوں کو منتشر کرنے اور ان بد بخت بلوائیوں کو حضرت سیدنا عثمان غنیؓ کا خون بہانے سے روکنے کی پوری کوشش فرمائی۔ حضرت سیدنا حسینؓ مدت تک شہادت حضرت سیدنا عثمان بن عفانؓ پر کفِ افسوس ملتے رہے اور اپنی مجلس میں رو رو کر حضرت سیدنا عثمان بن عفانؓ کے اوصاف بیان کرتے اور فرماتے کہ رسول اللہﷺ کے دامادؓ نے آخر دم تک ہمارا خیال رکھا اور ہمارے حقوق کو زائل نہیں ہونے دیا اور سیدنا عثمان کے حق میں دعا فرماتے اے اللہ! جیسے (سیدنا )عثمانؓ نے ہمیں سیراب کیا تو بھی انہیں سیراب فرما۔ ‏‎حضرت سیدنا حسینؓ اکثر محاربات میں صحابہؓ کرام کے ہمرکاب رہے۔آپؓ نے اپنے محاربات کا آغاز دورِ عثمانیؓ میں کیا۔ حضرت سیدنا عثمان غنیؓ جہاں کہیں مجاہدین کے لشکر بھیجتے۔ حضرت سیدنا حسینؓ برابر ان میں شامل ہوتے اور میدان جہاد میں جرات و شجاعت کیساتھ قتال فرماتے۔چنانچہ حضرت سیدنا عثمان غنیؓ نے جو فوج افریقہ روانہ فرمائی،آپؓ بھی اس میں شریک ہوئے اور افریقہ فتح ہونے تک دشمنوں سے لڑتے رہے۔طرابلس میں رومیوں سے جو لڑائی ہوئی اسمیں بھی آپ نے خوب مقابلہ ومقاتلہ کیا اور رومی لشکر کو ہزیمت اٹھانا پڑی۔سبیطلہ میں اس کے حاکم جرجیر کی ڈیڑھ لاکھ فوج سے جہاد کیا اور فتح مند ہوئے۔قفصہ کی جنگ میں بھی شجاعت کے جوہر دکھائے اور کامران رہے،بعد ازاں قلعہ اجم کے محاصرہ و یلغار میں آپؓ شریک رہے اور مظفر و منصور ہوئے۔ ‏‎مشہور مؤرخ ابن خلدون کی روایت کے مطابق حضرت سیدنا حسینؓ نے بہت ہی مغربی جنگوں میں پامردی سے جہاد فرمایا۔ 30 ہجری میں حضرت سیدنا عثمان ذوالنورینؓ نے طبرستان پر لشکر کشی کی،آپؓ موصوف اس میں بھی موجود تھے۔اس کے علاوہ خراسان،قومس،نہاوند،جرجان،طمیسہ،بحیرہ،دہستان ایسی متعدد لڑائیوں میں شجاع ابن شجاع حضرت سیدنا حسینؓ نے شرکت فرمائی،اور لطف یہ ہے کہ جس جنگ میں بھی آپؓ نے حصہ لیا،اس میں اللہ تعالی نے اہل اسلام کو فتح ونصرت عطا فرمائی۔یہ تمام فتوحات حضرت سیدنا عثمان ذوالنورینؓ کے عہدِ مبارک میں ہوئیں۔ الغرض شجاع ابن شجاع حضرت سیدنا حسینؓ کے مجاہدانہ کارنامے سنہری الفاظ میں ثبت کرنے کے قابل ہیں۔ثبت کرنے کے قابل کیوں نہ ہوں آپؓ شجاع ابن شجاع تھے ۔بہادر باپؓ کے بہادر فرزندؓ تھے۔رضوان اللہ تعالی علیھم اجمعین۔



from Breaking News – Top 10 facts of the world in Urdu https://ift.tt/3DHP0zo

0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔